ابنا: پاکستانی ذرائع سے نقل کیا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی سے اسلام آباد میں ملاقات کی ہے، جس میں بلوچستان سمیت ملک بھر میں دہشتگردی کیخلاف جاری ٹارگٹڈ آپریشن پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ ملاقات میں کیرانی روڈ پر پیش آنے والا حالیہ واقعہ اور حکومت اور ملت تشیع کے درمیان طے پانے والے مذاکرات اور ان پر جاری پیش رفت پر غور کیا گیا۔ وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا تھا کہ حکومت کالعدم تنظیموں کیخلاف سنجیدگی سے آپریشن کر رہی ہے اور انشاءاللہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی لشکر جھنگوی سمیت فرقہ پرست عناصر کیخلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائیگی۔علامہ امین شہیدی کا کہنا تھا کہ ملت تشیع میں سانحہ کیرانی روڈ اور سانحہ علمدار روڈ کے باعث بے چینی پائی جاتی ہے، اگر حکومت علمدار روڈ سانحہ سے کوئی سبق حاصل کرتی تو آج ہمیں یہ سانحہ دیکھنے کو نہ ملتا۔ لہٰذا حکومت ہوش کے ناخن لے اور سنجیدگی کیساتھ اس ٹارگٹڈ آپریشن کو اپنے منطقی انجام تک پہنچائے۔ علامہ امین شہیدی نے وزیر داخلہ سے مشتاق سکھیرا کو آئی جی بلوچستان تعینات کرنے پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور اسے حکومت کا غلط فیصلہ قرار دیا۔ اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم کے رکن شوریٰ عالی علامہ محمد اقبال بہشتی بھی موجود تھے۔
22 فروری 2013 - 20:30
News ID: 393624
وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی سے اسلام آباد میں ملاقات کی ہے، جس میں بلوچستان سمیت ملک بھر میں دہشتگردی کیخلاف جاری ٹارگٹڈ آپریشن پر تبادلہ خیال کیا ہے۔